ربیکا کا خواب ہے کہ وہ صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ملازمت حاصل کرے۔

رومانیہ کی ربیکا (37) دس سال سے زیادہ عرصے سے بیلجیم میں مقیم ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے تک وہ اتنا زیادہ باہر نہیں نکلتی تھی۔ صرف اس وقت جب اس نے بون کے انضمام پروگرام کی پیروی کرنے کا فیصلے کیا تب اس کے سامنے پوری ایک دنیا کھل گئ۔ وہ اب صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ملازمت کا ادارہ رکھتی ہے۔ اس کا دوستوں کا ایک بین الاقوامی حلقہ ہے اور با قاعدگی سے جمخانہ جاتی ہے۔

ربیکا کی پیدائش اور پرورش رومانيا میں ہوی تھی۔ ایک طلب علم کی حیثیت سے وہ اپناہ نرس کا ڈپلومہ حاصل کرنے کیلۓ اطاليہ گئ اس کے بعد وہ ایک ہاسپلیس (بیماروں کی اقامت گاہ) میں بھی کام کرتی رہی اور سرطان کی جان لیوا بیماری کے مریضوں کی دیکھ بال کرتی تھی۔ ربیکا: میں اپنی نوکری بہت شوق سے کرتی تھی یقینا یہ احساساتی طور پر بعض اوقات بھاری کام تھا۔ موت خوبصورت نہیں ہے لیکن افراد کو ان کا مرتبہ واپس دینا اور مرنے والے کے کنبہ کی چھوٹے پیمانے پر مدد کرنا بہت اطمینان بخش ہے۔

" خواب دیکھنا مہں نے کافی عرصے سے چھوڑ دیے تھے"

Rebeca اٹلی میں نھ سال قیام کے بعد ربیکا اپنے شوہر کی پیروی کرتے ہوۓ برسلز آگئ اس جوڑے کے چار بچے پیدا ہوۓ اور اس کے نتیجے میں وہ گھر پر بچوں کی دیکھ بھال کیلۓ رہتی تھی وہ زیادہ گھر سے باہر نہیں جاتی تھی۔ یہ ایک بڑا قدم تھا۔ ہماری فیملی کا کوئ فرد یہاں نہیں اور اس وجہ سے ھم زیادہ طر خود انحصار تھے۔ میرا وقت اور توانائ زیادہ تر بچوں کے ساتھ صرف ہوتے تھے۔

یہ تبدیلی 2019 میں آئ جب ربیکا نے بون کے دروازے پر دستک دی۔ پہلا سوال جو مجھ سے پوچھا گیا وہ تھا آپ کا خواب کیا ہے؟ اس نے مجھے مکمل طور توازن سے باہر کردیا تھا۔ میں نے ایک طویل عرصے میں خواب نہیں دیکھا ۔ بہر حال اپنے آپ کے لئے نہیں .میں سوچتی تھی کے بیلجیم میں رومانیائی باشندے صرف صفائ کی خاتون بن سکتی ہیں۔

صحت کی دیکھ بھال کے شعبے پر مرکوز انضمام پروگرام

اسکی نگران کی بدولت ربیکا پیشہ ور کیریر کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ انھوں نے حال ہی میں انضمام پروگرام کی پیروی کی ان افراد کیکۓ جو صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں تربیت یا کام کی تلاش میں ہیں۔ سماجی واقفیت کے کورس کے دوران میں ڈاکٹروں ، فزیو تھراپسٹ اور نرسز کے گھیرے میں تھی ان میں سے اکثر کافی تجربہ کار تھے لیکن پھر بھی بے روزگار تھے۔ اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا۔ مجھے یہ احساس ہوا کے میں نے بہت وقت ضائع کیا تھا۔ میں ایک اسفنج کی طرح تھی صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کے بارے میں سب جاننا چاھتی تھی۔

ربیکا نے ڈچ کورس سےبھی بہت کچھ سیکھا ۔ ھم نے تکنیکی اصطلاحات سیکھی جوکہ یقینی طور پر کار آمد ثابت ہونگی اگر ھمارے پاس کام ہو گا ۔

حیات نو

ربیکا اب اپنا آپ مختلف محسوس کرتی ہے۔ انضمام پروگرام کے دوران آپ ایسے لوگوں سے رابطے میں آۓ ہیں جن سے آپ کسی اور طرح کبھی رجوع نہیں کریں گے۔ اس نے حقیقی طور پر میری آنکھیں کھول دیں۔ میں پہلے دوسرے ثقافتوں کے حوالے سے تعصب کا شکار تھی لیکن میں نے اس سے فوری طور پر چھٹکارا پالیا۔ یہ حقیقی کثیر الثقافتی زندگی کیلۓ ایک اچھی تیاری تھی۔ اب میں مثال کے طور پر دوسری ماؤں سے سکول کے گیٹ کے پاس بات کرنے کی جرات رکھتی ہوں قطع نظر اس سے کے وہ کہاں سے آئیں ہیں۔

اس کے اہل خانہ نے بھی نوٹ کیا کہ وہ کھلی کھلی ہے۔ اس کے شوہر کے مشاہدے کے مطابق وہ بہت زیادہ آزاد اور متحرک ہوگئ ہے اور اولاد ؟ وہ اسے پہلی دفعہ غیر نصابی سرگرمیوں کیلۓ باہر لاۓ۔ میں نے سیکھا کہ آپ ایک ایک محدرد بحٹ کے ساتھ بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ میں اپنی مدد آپ کے تحت آن لان ویب ڈیزائن کا کورس کر رہی ہوں اور باقاعدگی فٹنس کلب جاتی ہوں۔ مسرت کا مل!

مستقبل کے منصوبے

ربیکا مستقبل کو کیسا دیکھتی ہے؟ بون فی الحال بیلجیم میں اپنا ڈپلومہ تسلیم کرنے میں میری مدد کررہا ہے۔پھر میں نگران کی حیثیت سے ملازمت کی تلاش کروں گی اور کیا پتہ میں نرس بننے کیلۓ کبھی دوبارہ تربیت حاصل کروں۔ میں جرات رکھتی ہوں دوبارہ خواب دیکھنے کی۔

  

Hassib keuken

حسیب کو اس میں دلچسپی کیسے پیدا ہوی؟

حسیب افغانستان میں پولیس افسرتھا۔ اب وہ پیانو فا بریک کمیونٹی سنٹر کے کیفے الکانٹرا میں باورچی خانے میں کام کرتا ہے۔

laaggeletterde moeders

تین جوان ماؤں کے الفاظ

میمونہ (عمر پچیس سال) ، سٹیلا ( 33 سال) اور وسال (23 سال) اس وقت کم خواندہ والدین پر مبنی انضمام پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔

اگلا مفت انضمام کورس کا آغاز 06/09/2021 - 25/10/2021